بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ڈاکٹر میئر شیمر کہتے ہیں کہ بن سلمان نے ٹرمپ کی اکسانے پر یمن کے خلاف جنگ شروع کی؛ اور آخر میں وہ وضاحت کرتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی یوکرین کو ایک 'شکست سے دوچار جنگ' جاری رکھنے پر اکساتے ہیں۔ میئر شیمر بالآخر نتیجہ لیتے ہیں کہ امریکہ اور مجموعی طور پر مغرب تینوں جنگوں (یوکرین جنگ، ایران جنگ اور یمن جنگ) میں ناکام ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے عالمی سطح پر نیا کثیر قطبی نظام تیزی سے تشکیل پا رہا ہے۔
امریکی پروفیسر اور سیاسی سائنسدان جان میئر شیمر نے کہا:
امریکہ واضح حکمت عملی کی کمی کی وجہ سے ایران کے خلاف جنگ میں یقیناً ناکام ہوگا
• امریکہ-اسرائیل کے پاس ایران پر حملے میں بے شمار فوجی اور اقتصادی ذرائع استعمال کرنے کے باوجود فتح کی کوئی واضح حکمت عملی نہیں اور دباؤ جاری رکھنے سے وہ انتہائی مشکل صورتحال میں پھنس گئے ہیں۔
• ٹرمپ نے دو مرتبہ وسیع فوجی محاز آرائی کی مگر وہ نتیجہ حاصل نہ ہو سکا جو وہ چاہتا تھا؛ پھر اس نے سمندری ناکہ بندی اور اقتصادی دباؤ کا رخ کیا اور اب تک کوئی ایسی علامت نظر نہیں آتا کہ یہ دباؤ ایران کو ہتھیار ڈالنے کے قریب لا رہا ہو؛ اس کے برعکس، تہران اس جنگ میں مزاحمت اور امریکی اہداف کی تکمیل روکنے پر شدید مصمم ہے۔
• اقتصادی دباؤ ایران کو پسپائی پر مجبور نہ کر سکا، بحری ناکہ بندی اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہ کر سکی اور وسیع فوجی کارروائی کی طرف واپسی بھی امریکہ کی صورتحال بہتر نہیں کرے گی۔
• ایران کے اندر امریکی زمینی فوج بھیجنا کوئی سنجیدہ آپشن نہیں۔
جنگ رک جانے کے باوجود بھی امریکہ کا ایران سے دشمنانہ رویہ ختم نہیں ہوگا
• فوجی تصادم بالآخر رک جائے گا مگر ایران کے خلاف امریکہ کی "دشمنانہ" کارروائیاں جاری رہیں گی اور وہ اسرائیل کا کردار اس مستقل دشمنی کی اہم وجہ ہے۔
• اسرائیل ایران کو وجودی دشمن سمجھتا ہے اور امریکہ میں گہرے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے وہ واشنگٹن کو تصادم کا رویہ جاری رکھنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ چنانچہ
• ایران اور امریکہ کے درمیان بامعنی امن معاہدے کا حصول تقریباً ناممکن ہے۔
• اس جنگ نے تہران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے جذبے کو بڑھا دیا ہے؛ جوہری معاہدہ موجود نہیں ہے اور جوہری معائنہ کار ایران میں موجود نہیں ہیں، اور جنگ جاری ہے، چنانچہ
• ایران کے اندر زیادہ آوازیں جوہری ہتھیار کے حصول کی ضرورت کی بات کر رہی ہیں۔
روس اور چین، ایران کی حمایت سے اپنے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں
• ایران کی جنگ محض دو طرفہ تنازع نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے وسیع تر مقابلے کا ایک جزو ہے۔
• روس اور چین ایران کی حمایت کر رہے ہیں اور یہ حمایت، ایرانی معاشرے کے مضبوط ارادے کے ساتھ مل کر، امریکہ کے سامنے مزاحمت کے لئے ایران کی مادی اور فوجی صلاحیتوں کو دوگنا کر رہی ہے۔
• تزویراتی حریفوں کے طور پر، ماسکو اور بیجنگ کا مفاد امریکہ کو فتح و کامیابی سے روکنے میں ہے اور امریکی پالیسیوں نے روس، چین، ایران اور شمالی کوریا کے قریب آنے میں مدد دی ہے۔
• اگر منجمد تنازع مستحکم ہو جائے اور ایران کی سلامتی کے تئیں ماسکو اور بیجنگ کی حمایت جاری رہے تو مستقبل میں [بیجنگ اور ماسکو کے ساتھ واشنگٹن کی] کی کشیدگی بڑھنے کا خطرہ موجود رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ